اب دشمنوں کو دوست بناتا نہیں کوئی
یہ تو میرا ہنر تھا ، مرے ساتھ مر گیا
معلیٰ
یہ تو میرا ہنر تھا ، مرے ساتھ مر گیا
خود اپنے سر پہ خاک اُڑانے لگی ہوا
میں نے منزل کو زیر پا دیکھا
اک نئے اسلوبِ ماتم کے سوا کچھ بھی نہیں
ہم یونہی بیٹھ گئے تھے تری دیوار کے پاس
وہ بت بھی شان دکھانے لگے خدا کی طرح
مجمع میں جو کھڑے تھے کلیمی عصا لیے
الزام میرے قتل کا میرے ہی سر گیا
مگر یہ رات کے لمحے کہاں قیام کروں
جو آشنا ہو تو پیش آؤ آشنا کی طرح