آنکھوں میں خواب رکھ کے ترے آسمان کے
سونے لگا ہوں دیکھ میں دھرتی کو تان کے
معلیٰ
سونے لگا ہوں دیکھ میں دھرتی کو تان کے
جانے کس کس کو ملے میری سزا ،میرے بعد
تیرے ماتھے کی سیاہی تو مٹا دی جائے
دشتِ دل ہی میں اسے آؤ صدا دی جائے
صبح کو شامِ تمنا سے گریزاں دیکھا
نہ جانے کیوں ترے در پر وہ دیر سے خم ہے
مجھے پیار ہے کسی اور سے ، مرا دل ربا کوئی اور ہے
پہنچے تلاشِ یار میں اپنے قدم کہاں
بادہ کشوں میں بٹ گیا پیرِ مغاں کا پیرہن
ساز مرا لطیف ہے ، نغمہ ترا لطیف تر