مٹا کر مجھے آپ میں جذب کر لے
بقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوں
معلیٰ
بقا کے لیے میں فنا چاہتا ہوں
تیرے دیوانے کو ہر حال میں شاداں دیکھا
موت اُن کی منزلِ مقصود کا اک نام ہے
ذرہ ذرہ دے رہا ہے مژدۂ دیدارِ دوست
یاد رہے گا دشت کو میرے جنوں کا بانکپن
جنونِ شوق کی یہ چرخ پیمائی نہیں جاتی
بُوئے خوں آتی ہے اس فصل میں گلزاروں سے
شیشے سے بھی نازک ہوتے ہیں یہ سیم بدن اصنامِ غزل
میں اپنے ساتھ اپنی بے زبانی لے کے آیا ہوں
آپ سچ کہتے ہیں ، ہاں آپ بجا کہتے ہیں