حق پرستی کے یہی ہیں دو نشان
سنئے کچھ ذکرِ صنم یا دیکھیے
معلیٰ
سنئے کچھ ذکرِ صنم یا دیکھیے
ندی کنارے رونے سے موتی ہاتھ نہ آئے
تھکے ماندے مسافر کو بھی سستانے نہیں دیتے
رحم ترا ، کرم ترا ، قہر ترا ، غضب ترا
نہ پڑے بال مگر ایک بھی آئینے میں
مر کر بھی کوئی قید سے آزاد ہوا ہے
ڈوبنے والے کو اک تنکا بھی ساحل ہو گیا
دو قدم اور جو آگے بڑھے ویرانے سے
ہوتا ہے پھر بھی کوئی کشیدہ اگر تو ہو
موت سے بڑھ کے ہے جذبات کی تحقیر مجھے