تنہا تو دو جہاں کا سفر کر چکا ہوں میں
اُٹھا نہ اک قدم بھی مگر رہنما کے ساتھ
معلیٰ
اُٹھا نہ اک قدم بھی مگر رہنما کے ساتھ
یا بجلیاں رہیں گی یا آشیاں رہے گا
چراغِ صبح نہیں آفتابِ شام ہوں
کوئی تعمیر در و بام سے آگے نہ بڑھی
کھلنے کو پھول لاکھ کھلے ہیں بہار میں
مجھے مانگا ہوا پیرہن اچھا نہیں لگتا
آنا جانا ہے تو پھر دیوار میں در رہنے دو
کھلونے ہاتھ میں لے کر کوئی بچہ نہیں نکلا
تعمیر اس کی بارِ دگر ہونی چاہیے
سہارے آدمی سے استقامت چھین لیتے ہیں