میں جب بھی بات کرتا ہوں وہ مجھ کوٹوک دیتا ہے
میں جب بھی بات کرتا ہوں وہ مجھ کو ٹوک دیتا ہے مرا بیٹا ہی مجھ کو معتبر ہونے نہیں دیتا
معلیٰ
میں جب بھی بات کرتا ہوں وہ مجھ کو ٹوک دیتا ہے مرا بیٹا ہی مجھ کو معتبر ہونے نہیں دیتا
جینے کے عزم مرنے کے تیور لیے ہوئے
آ جا ستون بن کے مرا گھر سنبھال دے
مرنا آتا نہیں جینے کے ہنر ڈھونڈتا ہے
اور اس کے پاس اور سوالات بھی نہیں
ہمارے واسطے بس راستہ ہی کافی ہے
کرچیاں درد کی نکلیں تو کہاں سے نکلیں
اور پیش نظر رہتا ہے ہر دم مرے گھر بھی
غزل کے نرم لہجے میں سخن کی بات کی جائے
مگر تھا ناز مجھے اس کی حکمرانی پر