انا کے کانچ کو ٹھوکر سے چُور کرتے ہوئے
رواں ہوں رشتوں کے دریا عبور کرتے ہوئے
معلیٰ
رواں ہوں رشتوں کے دریا عبور کرتے ہوئے
کنیز تحریر ہو گئی ہے ، خوشامدانہ صحافتیں ہیں
اس آئینے میں کہیں پر مرا کمال بھی ہے
کسی نے کیسی یہ بد دعا دی کہ شاخِ گل پر ثمر نہ آئے
بجھتے ہوئے چراغ کی لو کا دھواں ہوں میں
تیر لفظوں کے وہ جب لب کی کماں تک لے گیا
غم نہیں رُلاتے ہیں خواہشیں رُلاتی ہیں
در بدر پھرتا ہے کوئی چین پانے کے لیے
زندگی لکھی گئی ہے خود کشی کے نام پر
پھر بھی میں لکھی گئی ہوں بے گھری کے نام پر