بے حسی لے گئی جذبات کی ساری خوشبو
اب یہ غنچے کبھی شاداب نہیں ہونے کے
معلیٰ
اب یہ غنچے کبھی شاداب نہیں ہونے کے
سر سے چادر سرک گئی ہے کیا
شام ہوتے ہی پلٹ آئے گا گھر جانتا ہے
میں حقیقت تھی مگر وہ داستاں تک لے گیا
طوائفوں میں انہیں عورتیں نہیں ملتیں
خدایا اِن میں تیرا ایک بھی بندہ نہیں نکلا
کہاں آ گئے میکدے سے نکل کر
وہاں تک خودی ہے وہاں تک خدا ہے
ہائے کیا طرزِ دلربائی ہے
کھو جاتا ہے پانے والا