جیسے غزلوں میں شامل ہو ہر پڑھنے والے کی سوچ
یہ فانوس مظفرؔ صاحب کیا کیا رنگ بدلتے ہیں
معلیٰ
یہ فانوس مظفرؔ صاحب کیا کیا رنگ بدلتے ہیں
ہمت چور ، ڈگر انجانی ، ڈگمگ پاؤں ، پھسلتی ریت
ہیرا ہیں مگر غم کی انگوٹھی میں جڑے ہیں
کھل گئے پھول لفافے پہ ترے نام کے گرد رقص کرتا ہے قلم زیر و زبر میں کیسے
یہ بھی سچ ہے کہ ملاقات سے کیا ہوتا ہے
ہمارے کام جب آئی تو اپنی تشنگی آئی
دامن رفو ہوا ، نہ کوئی آستیں سلی
اک تار بھی نہیں کہ گریباں کہیں جسے
ہم نے وہیں کھولی تھی زخموں کی دوکاں پہلے
جو لوگ جانتے تھے وہ انجان ہو گئے