میں تو دریا دریا گھوما ، پنگھٹ پنگھٹ ٹھہرا ہوں
ایسی کوئی جگہ بتلاؤ ، ہونٹ جہاں تر ہوتے ہوں
معلیٰ
ایسی کوئی جگہ بتلاؤ ، ہونٹ جہاں تر ہوتے ہوں
کھٹے میٹھے تازہ تازہ میرے شعر
یوں سب کو مٹی ہونا ہے عالم کیا اور جاہل کیا
جرم و گنہ کے بوجھ سے ورنہ گرے گا منہ کے بل
یہ میری شاعری اے حشرؔ شرحِ دردِ الفت ہے وہی سمجھیں گے اس کو جو زبانِ دل سمجھتے ہیں
کہ شاعر وہ شجر ہے حشرؔ جلتا ہے تو پھلتا ہے
بادلو ہٹ جاؤ دے دو راہ جانے کے لیے
تو زہر بھی ہاتھوں سے پلائے تو مزا دے
وہ نقش جاوداں تھے جو پتھر میں رہ گئے
خوشا اے زندگی خوابوں کی دنیا چھوڑ دی میں نے