فکر و نظر نے کھولے کتنے رموزِ ہستی
لیکن کُھلا نہ اُس کی پہلی نظر میں کیا تھا
معلیٰ
لیکن کُھلا نہ اُس کی پہلی نظر میں کیا تھا
یہ بام و در تیرے آنے سے جگمگائے ہیں
اے دل مگر وہ حسن کا پیکر بھی دیکھ لے
کوئی سُنے تو دل کا بھی کچھ ماجرا کہیں
جب ہو سکا نہ ضبطِ الم ، مسکرا دئیے
صدیوں کے جو بُت ٹوٹے لمحوں کے خدا آئے
حشرؔ یہ کالی گھٹائیں اور توبہ کا خیال تم یہیں بیٹھے رہو میں سوئے میخانہ چلا
اثر دعا کیلئے ہے دعا اثر کے لئے
آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے
آدمی کیا وہ جسکی بات نہیں