تخریب میں تعمیر کے پہلو ہیں نہاں اور
مٹتا ہے جہاں ایک تو بنتا ہے جہاں اور
معلیٰ
مٹتا ہے جہاں ایک تو بنتا ہے جہاں اور
اک زخمِ محبت جو ہرا تھا سو ہرا ہے
ویران خلاؤں میں بھی اک شہر بسا ہے
غزل وہ فن ہے کہ غالبؔ کو تم سلام کرو
محبت میں گردن کٹا ، اُف نہ کر
شعروں کے یہ تیر مظفرؔ چڑھی کمانیں غزلوں کی تم جس لہجے میں کہتے ہو شمشیر اور سناں کیا ہے
گریباں ہاتھ میں ہوتا ، گلے میں آستیں ہوتی
مجھے ہمراہ لیے جاتے ہیں موسیٰ دشتِ ایمن کو
یوسفؑ سے پارسا سے ہمیں یہ گماں نہ تھا
یہ چار ماتمی تو فقط گھر کے ہو گئے