منہ پہ ملتا ہوں تری خاکِ قدم رو رو کر
کرنا پڑتا ہے وضو کر کے تیمم مجھ کو
معلیٰ
کرنا پڑتا ہے وضو کر کے تیمم مجھ کو
سائلؔ بھی لوگ کہتے ہیں نواب بھی ہمیں بے آبرو بھی ہم ہوئے تو آبرو کے ساتھ
کہیں ایسا نہ ہو وہ بھی ہمارے ساتھ رُسوا ہو
آئیں گے اپنے گھر سے رقیبوں کو ٹال کر
زباں کا پوچھنا کیا ہے ، یہ کہتی ہے ، مُکرتی ہے
کے نے پی کے نے نہ پی ، کتنوں کے آگے جام تھا
لاؤ شراب اِن کو کرامت دکھائیں ہم
حُوروں کو آرزوئے ملاقات ہو گئی
غزال بن کے غزالوں کی جستجو کرتے
برپا وہیں قیامتِ دار و رسن ہوئی