کُھلتا نہ تھا کہ کیا ہے خمِ زُلفِ دلبراں
کل رات ناگہاں یہ معما بھی حل ہوا
معلیٰ
کل رات ناگہاں یہ معما بھی حل ہوا
یہ مختصر ہے کہ عہدِ شباب ہی نہ رہا
سخت دشوار ہے انسان کا انساں ہونا
موت تھی یا حیات ختم ہوئی
گلشن گلشن دورِ بہاراں ایک ترے آ جانے سے
ہے وجہِ سکوں ایک فقط تیرا نام
اب چارہ گروں نے وہ رنگین بنا ڈالے
آسماں کو دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہوں میں
لگا ہی لی ہے جو دل کی بازی، تو جیت کیا اور ہار کیا ہے
جو میں نے اپنی حقیقت کا انکشاف کیا