ہے ایک قطرۂ خود ناشناس کی طرح
ہے ایک قطرۂ خود ناشناس کی طرح ؏ یہ کائنات مِری ذات کے سمندر میں
معلیٰ
ہے ایک قطرۂ خود ناشناس کی طرح ؏ یہ کائنات مِری ذات کے سمندر میں
خود آگہی کی ضرورت ہے بے خودی کے لئے
اس جگہ خاک کے ہونے کو غنیمت جانو
جو روبرو ہے مرے کوئی دوسرا ہی نہ ہو
نگاہِ ناز سے کُھلتا ہے معاملہ دل کا
ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ
بنانے تیشۂ فرہاد سے سرنگ چلے
یہ کوئی لمس ہے اداسی کا
ہم تجھے بھی گزار ہی دیتے
اگر سزا ہے مقدر تو کیا جزا کی طلب گزر گیا ہے ہماری نجات کا موسم