الفاظ ہیں خنجر تو بجھا زہر میں لہجہ
ایسے میں بھلا کیسے ہو اقرار محبت
معلیٰ
ایسے میں بھلا کیسے ہو اقرار محبت
تیری آنکھیں ترا چہرہ ترا لہجہ دیتا
اب ایسا لہجہ اپناؤں گی میں بھی
اک نئی طرز نوا ایجاد کر لیتے ہیں ہم
بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھیں شور کرتی تھی وہ برسات میں جھانجھر کی طرح
میرے چہرے سے رعایت نہیں کی جاسکتی
اک شعر ہو رہا ہے مصرعے بدل بدل کے
اتنا بھی خود غرض نہ بن، کچھ تو مرا خیال رکھ
دربازیِ بخشش کی خبر ساتھ میں دینا
ہم اہلِ انکسار کے قدموں کی خاک ہیں