اک شخص جو گزرا ہوا قصہ ہے زندگی کا
اب کیا کہیں کہ آج بھی حصہ ہے زندگی کا
معلیٰ
اب کیا کہیں کہ آج بھی حصہ ہے زندگی کا
آج پھر اُن سے ملاقات ادھوری رہ جائے
اور چپ رہوں تو پھر مری پہچان جائے گی
جو نظر آتا ہے میرا، وہ نہیں ہے میرا
پھر وہی کام سویرے جو مسافت دے گا
اسی زنداں میں ہمیں جینا ہے مر جانا ہے
سنا ہے پھر سے محبت کے امتحاں ہوں گے جو داغ مٹ گئے دل کے وہ پھر عیاں ہوں گے
نشاطِ قرب میسر ہے اتنی دوری میں
اُس کا لہجہ بتا رہا ہے مجھے اب ضرورت نہیں رہی میری
ورنہ کسی کو تیری آنکھیں کسی کو لہجہ مارتا ہے