میں تعلق سنبھال لیتی ہوں
آپ لہجہ سنبھالیے اپنا
معلیٰ
آپ لہجہ سنبھالیے اپنا
بسنے والے رفتہ رفتہ دل کا لہجہ بھول گئے
شوخ لب وہ شوخ لہجہ مست آنکھوں میں شراب
اس نے جس جس کو کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا
یار! تُو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا
کون اعصاب پہ طاری ہے جناب ؟ اتنا ٹوٹا ہوا لہجہ کیوں ہے ؟
کمال شخص ہے لہجہ بھی جانچتا ہے مرا
تم اُس کو مجبور کیے رکھنا باتیں کرتے رہنے پر اتنی دیر میں ، میں نے اُس کا لہجہ چوری کر لینا ہے
کہ میری ذات میں لہجہ شناس رہتا ہے
میں آپ کے جواب سے ہوں متّفق مگر لہجہ مجھے یہ آپ کا اچھا نہیں لگا