یہ شبنمی لہجہ ہے آہستہ غزل پڑھنا
تتلی کی کہانی ہے پھولوں کی زبانی ہے
معلیٰ
تتلی کی کہانی ہے پھولوں کی زبانی ہے
یہ جھیل دیکھ رہے ہو یہاں وہ آتی تھی
تیری آواز میں شامل مرا لہجہ ہو گا
پرانے طاق کے سامان سے کیا کیا نکل آیا
منافق آپ کو شیرینیاں بکھیرتے دکھائی دینگے
ظالم کا لب و لہجہ ، دل آویز بہت ہے
پہلے اک آگ سی جلتی تھی بجھا دی گئی کیا
اُس کا انداز سُخن سب سے جُدا تھا شاید بات لگتی ہوئی، لہجہ وہ مُکرنے والا
ان کا لہجہ تھا پتھروں جیسا
لفظوں کا اک ڈھیر لگا ہے ، لہجہ میرے پاس بھی ہے