لہجہ ہے کیسا سرد، رویّہ ہے کیسا خشک
سردی کی رات جیسی ہوا ہو گیا ہے وہ
معلیٰ
سردی کی رات جیسی ہوا ہو گیا ہے وہ
کوئی بالکل ترے جیسا تو نہیں ہو سکتا
اگر کسی نے خدا کو خدا نہیں مانا
ہم نے عیدیں بھی منائی ہیں محرّم کر کے
کوئی سانحہ کوئی حادثہ مرا منتظر تو نہیں کہیں
وہ جس کے پاس اور تو سب کچھ ہے ، میں نہیں
اور مرے پاس تو پھر دکھ کی فراوانی ہے
ہنستے ہوؤں کو دیکھ کے کوئی بھی خوش نہیں ہوا
جب تجھے چھوڑ دیا ہے تو سمجھ ، چھوڑ دیا
شاید میں کل تجھے بھی میسر نہ آ سکوں