کریں گے مبتلا احساسِ کمتری میں اسے
کوئی چراغ ، ستاروں سے گفتگو نہ کرے
معلیٰ
کوئی چراغ ، ستاروں سے گفتگو نہ کرے
میں نے کچھ سوچ کے لوگوں کو بچھڑ جانے دیا
فشارِ خون کو یہ کرب تیز کرتا ہے
میں چاہتی ہوں اندھیروں کا قتل عام کروں
بچ گئیں آنکھیں اگر تو , دیکھنا ! دیکھیں گے خواب
خون ارزاں ہوا ہے پانی سے
ابھی تو سیکھ کے آئی تھی دیکھنے کا ہنر
مرے ٹکڑے کہیں ہیں ، میں کہیں ہوں
تھا جواں مرد ، جوانمرد بھی ایسا ویسا
یہ پاؤں پڑ کے کہہ رہے ہم آپ کے غلام ہیں