آدم کی نسل ہوں مرا کیجے گا احترام
میں وہ ہوں جس کی ذات کو سجدہ کیا گیا
معلیٰ
میں وہ ہوں جس کی ذات کو سجدہ کیا گیا
تم "نہ ہونے” کی اذیت کو کہاں سمجھو گے
جس چوٹ کا علاج برس ہا برس میں ہو
دل یہ کہتا تھا ، وہی قید میسر آئے
خود فراموش سہی ، اتنا پتہ رکھتی ہوں
میں ان باتوں پہ ہنس پڑتی ہوں جن پہ رو نہیں سکتی
دریا کے آس پاس کوئی گھر بنائیے
وہ درندے بھی تو ماؤں نے جَنے ہوتے ہیں
مجھے کسی نہ کسی سے تو عشق ہونا تھا
حادثے کو بھی المناک نہیں ہونے دیا