میں زندگی سے کرنے لگی جب مزاحمت
اک حادثے پہ نام مرا لکھ دیا گیا
معلیٰ
اک حادثے پہ نام مرا لکھ دیا گیا
ایک دن مرنے کی خاطر عمر بھر جیتے رہے
ہم لوگ ترے ہجر کو درکار ہوئے ہیں
مجھے مناتی رہی ، میں نے تو منائی نہ تھی
اے میرے غم گسار ، یہ اچھا نہیں کیا
تو لہجہ و انداز بھی تیروں کی طرح تھا
اور تھا میرا تقاضا، جو بھی ہو دنگل میں ہو
محبت بانٹنے والے طویل العمر ہوتے ہیں
میں سُن چکا ہوں اُسے آنکھ کی سماعت سے وہ دیکھنے میں محبت کی بات جیسا ہے
مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی میں محبت ہوں ، محبت کو بچا لے کوئی