تمہارے بعد جسے چاہا اس کو دھوکا دیا
تمہارے بعد محبت کبھی نہ کی ہم نے
معلیٰ
تمہارے بعد محبت کبھی نہ کی ہم نے
میں کہاں اہل ہوں محبت کی
کہ تُم نے کتنے گھرانوں کو بے گھری دی ھے
لیکن اِس وھم سے اب کون نکالے مُجھ کو ؟
رُوح کو چھوڑ دے، اب جِسم مِرے سامنے لا
یہ کام ھم نے کیا ھوا ھے ! یہ پانی ھم نے بھرے ھوئے ھیں
تُو جیے اور ترے ساتھ مِری پیاس جِیے
کبھی اخبار کی سُرخی یا تراشہ نہ بنے دیکھنا یار! مِرا پیار تماشہ نہ بنے
خواب کے رُوپ میں نہیں ، اشک میں ڈھل کے آؤں گا اب کے میں تیری آنکھ میں بھیس بدل کے آؤں گا
عشق آخر عشق ہے تم کیا کرو ہم کیا کریں