کیا کہا عشق جاودانی ہے!
کیا کہا عشق جاودانی ہے آخری بار مل رہی ہو کیا
معلیٰ
کیا کہا عشق جاودانی ہے آخری بار مل رہی ہو کیا
یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
ہوش کے دور میں بھی جامہ دری مانگے ہے
سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
کہ عین وقت مرے سامنے سے تو گزرا
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
سمجھے ہے موسم اسے برسات کا
تو نے چاہا تو ہم ہرے رہیں گے
ہم نے ناحق ہی گنوایا اسے آرائش میں
خدا کبھی نہ دکھائے تجھے ملال کے دن