عظیم تر ہے عبادت شباب کی
عظیم تر ہے عبادت شباب کی لیکن یہی گناہ کا موسم ہے کیا کیا جائے
معلیٰ
عظیم تر ہے عبادت شباب کی لیکن یہی گناہ کا موسم ہے کیا کیا جائے
رُت بدلتی ہے تو زنجیر بدل جاتی ہے
تم بھی شاید وہیں سے آئے ھو اچھے موسم جہاں سے آتے ھیں
یہی موسم جناب دے دیجئے
سب تیرے بچھڑنے کے اِشارے ہیں کم و بیش
یہ برف موسم جو شہرِ جاں میں کُچھ اور لمحے ٹھہر گیا تو لہو کےدل کا کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا
میں نے شاید دیر لگا دی خود سے باہر آنے میں
میری خود سے رہیں ملاقاتیں
اس میں شامل ہے سرد مہری بھی
آئینہ ہنسنے لگا ہے میری تیاری پر