گزر گئے غمِ ہجراں کے سینکڑوں موسم
تمہارے وصل کے لمحے نہ میری جاں گزرے
معلیٰ
تمہارے وصل کے لمحے نہ میری جاں گزرے
وائے! خوش فہمیاں محبت کی دل سرِ شام ہی جلا ڈالا ہائے! بے چینیاں محبت کی
مری سقراط سوں رسمِ محبت یوں ادا ہو گی
آؤ کر لیں ثواب کی باتیں
پورا اتروں تو وہ معیار بدل دیتا ہے
خوف یہ ہے کہ مَحبَّت کا جواں سال غُرور ایک پل میں نہ کہیں رزقِ اَنا ہو جائے
عام لوگوں سے اگر خاص محبت ہو جائے
بادل کی طرح آنکھ سے برستا بھی وھی ھے
دھیان رکھنا کہ تھک نہ جائے کوئی
سر منصور ہی کا بار آیا