اب دیار دل میں اخترؔ ہو کا عالم بھی نہیں
کس اذیت ناک موسم سے مری یاری ہوئی
معلیٰ
کس اذیت ناک موسم سے مری یاری ہوئی
جو پھول سب سے حسیں موسم بہار میں تھا
موسم خوشی کا وقت سے پہلے گزر گیا
ایسے موسم میں بھلا چھوڑ کے جاتا ہے کوئی؟
نئی رُتوں میں نئے غم کی واپسی ہوگی
شباب ہو کہ نہ ہو حسن یار باقی ہے یہاں کوئی بھی ہو موسم بہار باقی ہے
وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں
موسم کے ساتھ ساتھ بدلتا ہے رنگ و روپ یہ پیڑ واقعی کوئی انسان ہی نہ ہو
یہاں ہر ایک موسم کو گزر جانے کی جلدی تھی
وہ میرا نام لیے جائے اور میں اُس کا نام لہو میں گُونج رہا ہے پکار کا موسم