ذرا گھر سے نکل گھر میں ذریعے ڈھونڈنے والے
ذریعہ خود نکل آتا ہے منزل تک رسائی کا
معلیٰ
ذریعہ خود نکل آتا ہے منزل تک رسائی کا
حیدرؔ فقیر گوشہ نشیں تھا ، غیور تھا
اب ہاتھ میں ہوں دامنِ صحرا لیے ہوئے
یہ دونوں پستیاں ہیں میں ان سے بلند ہوں
یہ آگ وہ ہے جو بجھنے میں نہیں آتی
یہ خواہشوں کا سمندر کبھی نہیں بھرتا
کسی کے نام سے آرائشِ بیاں تھی کبھی
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
دن بھر جلا کے شب کو بھجایا گیا ہوں میں
اچھا ہوا کہ سامنے دیوار و در نہ تھے