چال بدلی جو آج موسم نے
غم کے بادل بھی ہو گئے گہرے
معلیٰ
غم کے بادل بھی ہو گئے گہرے
گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں ، من میں کیا کیا موسم ہیں اس بگھیا کے بھید نہ کھولو، سیر کرو، خاموش رہو
نہ چھوڑیں جوایسےمیں بھی پارسائی تم انکے لئے کوئی انعام رکھ دو
عشق کے خوش گمان موسم میں پتھروں پر گلاب کِھلتے ہیں
عشق صدمے بحال رکھتا ہے
نَو برس، گیارہ مہینے، سات دن
کیا خبر کون کہاں کس سے جُدا ھو جائے
ھر ایک پر نہیں ھوتی عطا محبت کی
تیری آنکهوں کے پھول چنتا ہوں
آپ چپ چاپ فقط جان چھڑکتے جاویں