چُپ رھیں ؟ آہ بھریں ؟ چیخ اُٹھیں ؟ یا مرجائیں ؟
کیا کریں بے خَبَرو ! تُم کو خبر ھونے تک
معلیٰ
کیا کریں بے خَبَرو ! تُم کو خبر ھونے تک
کوئی بھیک رُوپ سرُوپ کی ، کوئی صدقہ حسن و جمال کا شب و روز پھرتا ہوں در بدر میں فقیر شہر ِ وصال کا
اور آج رہ گیا ھے تعلُّق برائے نام
زخمی جو ہو چُکا ہو کسی کی نگاہ کا
پہلے الفت تھی، اب اُداسی ہے
ہر شب مری روح کا احتساب ہوتا ہے
اپنے اپنے مزاج کا موسم
اپنی ہی تصویر میں چہرہ پرانا ہو گیا
میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا
سب تیرے بچھڑنے کے اشارے ہیں کم و بیش