دل بھی اب ٹھہر گیا درد بھی خاموش سا ہے
پھر بھی اک ہوک سی اُٹھے جو ترا نام سُنوں
معلیٰ
پھر بھی اک ہوک سی اُٹھے جو ترا نام سُنوں
تم تو کہتے تھے برا وقت گزر جاتا ہے
دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں
ہوتے ہوتے مرے قابو میں طبیعت ہوگی
یہ تیرے اختیار سے پہلے کی بات ہے
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
میں تجھے بھولنے کے حق میں تھا
اسکی دہلیز پہ سو اہلِ کرم آتے ہیں
یہ نہ میرا نہ تمہارا نہ کسی کا ہوگا
ہم نے جس سے کی محبت اس کو نفرت ہوگئی