دل کو عُشّاق کے ایسا کیا ویراں ظالم
مُدّت اب چاہیئے اس شہر کو بستے بستے
معلیٰ
مُدّت اب چاہیئے اس شہر کو بستے بستے
ایک ہی تیغ لگا ایسی اے جلاد کہ بس
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
قبضہ میں آئے یار نا قابو میں آئے دل
زباں پہ ناز تھا جن کو، وہ بے زباں نکلے
سکونِ دل نہ ہوا میسر زمانے میں نصیر ،زیست بڑی بے قرار گزری ہے
یہ کوئی چال ہے ! بھونچال ہے میاں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
’’نقشِ کہن‘‘کو دل سے مٹایا نہ جائے گا گزرے ہوئے دنوں کو بُھلایا نہ جائے گا
تم کہو تو یہی دو نیم کیئے دیتے ہیں