کس کی آہٹ سے یہ سویا ہوا دل جاگ اٹھا
کر دیا کس کی صدا نے ہمہ تن گوش مجھے
معلیٰ
کر دیا کس کی صدا نے ہمہ تن گوش مجھے
خوش ہوئی وحشت غم جب رسن و دار ملے
لیکن یہ جیسے پہلے تھے ویسے کہاں ہیں لوگ؟
اور کچھ ہو گا جسے دل کا دُھواں لکھتے ہو
دل کے باہر بھی کوئی تیرے برابر نہ ہوا
میں نے اپنی کتاب مانگی تو اس نے اپنے گلاب مانگ لئے
کئی زمانے ہوئے میں خود سے نہیں ملی ہوں
جسم پتھر سا ہو گیا میرا
جانے کیسے آنکھ اچانک بھر آئی
میرے احساس سے خفا رہنا