گردشِ ایام میں بکھرا ہوا
میں کسی سے بے خبر ہوتا گیا
معلیٰ
میں کسی سے بے خبر ہوتا گیا
تمہــاری جـــاؤں جــاؤں نے تو میـــرا دم نکالا ہے
جس جھولی میں سو چھید ھوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہونگے اے فلک مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی أچھی لگی
تم نے آخر کیوں بنا رکھا ہے دیوانہ مجھے
زلف برہم، عرق آلود جبیں، دامن چاک کس کے آغوش سے تُو جان چھڑا کر نکلا
عجب ملبوس ہے ہم وحشیوں کا رختِ عریانی گریباں ہے، نہ پردہ ہے، نہ دامن ہے، نہ چولی ہے
مجھ کو اب تک آپ کا دامن چھڑانا یاد ہے
پرائی چادروں سے تن کا پردہ ہو نھیں سکتا