گرد شہرت کو بھی دامن سے لپٹنے نہ دیا
کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں
معلیٰ
کوئی احسان زمانے کا اٹھایا ہی نہیں
ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر رہگزر رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا
یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے
جب میں تصویر میں ہوتی ہوں بہت بولتی ہوں
تماشہ دیکھنے والوں کے دائرے کی طرح
تختِ ادب کا ایک سکندر علیل ہے
کسی سے رزق سخن مانگ کر نہیں کھایا
میں فاقہ کاٹ لوں گی ، نوکری نہیں کرونگی
مرے تعویذ الٹے پڑ گئے ہیں
تمہارے شہر میں پل بھر قیام سے بھی گئے