ہیروں سے لوگ خاک زمیں تجھ کو سونپ کر
مت پوچھ ہم نے کیا کیا خزانے گنوا دئیے
معلیٰ
مت پوچھ ہم نے کیا کیا خزانے گنوا دئیے
ابھی تو میں اس کو صرف دنیا دکھا رہا ہوں
میرے مرنے پہ بھی مضمون لکھا جائے گا
اور ہم جو سبز رت میں جھڑے جا رہے ہیں یار
پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے
کتنی حسین ہے ناں جوانی کی موت بھی
رشکِ افلاک ہیں وہ لوگ کہ جب دل چاہا تری دہلیز پہ پہنچے ، ترا در دیکھ آئے
سوچتا ہوں کہ کہوں تجھ سے مگر جانے دے
کــہنے لگا کہ آہ مـــرا ہاتـــھ جـــل گیا
نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا، خاص بنو اور عام رہو محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گمنام رہو