شہرِ طیبہ کی ہوا درکار ہے
دردِ عصیاں کی دوا درکار ہے مصطفیٰ خیر الوریٰ کے عشق میں بس تڑپنے کی ادا درکار ہے جاہ و حشمت کا نہیں طالب حضور آپ کی اُلفت شہا درکار ہے سرخروئی قبر و محشر میں مِلے یہ عنایت یہ عطا درکار ہے سر اُٹھاتا ہے یزیدِ وقت پھر پھر سے کوئی کربلا درکار ہے […]