نظر میں برق سی اِک ثانئے کو لہرائی
چھپا گئے ہو بخوبی مگر شناسائی عجب ہوا کہ شکستِ یقین کی چادر ستم ظریف تری اوڑھنی نکل آئی جگر کے زخم کہاں نشتر نے سینے تھے بساطِ عشق میں کب تھی مری مسیحائی ملال ہے کہ محبت کی بارگاہ سے بھی دلِ تباہ کے حصے میں بے دلی آئی گری ہے دوشِ تمنا سے […]