ہوا نہ تارِ تنفس میں ارتعاش تلک
بچھڑ گیا ہے کوئی اس قدر خموشی سے حیات سر کو جھکائے کھڑی ہے صحرا میں کہ باز آ نہ سکا قیس سر فروشی سے ملا ہے عکس سرِ آئینہ اگرچہ ابھی ملا نہیں ہے مگر خاص گرمجوشی سے زمینِ آتش و آہن تو پار کرنی ہے وجود چور سہی خانماں بدوشی سے ہزار عیب […]