اردوئے معلیٰ

نور پیش ہر کوکب ، مصطفےٰ کا کرتا ہے

وِرد آسماں ہر شب ، مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

حوصلہ تدبر بھی، صلح و امن و جرا ت بھی

انتخاب ہر مکتب ، مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

سنگریزے پڑھتے ہیں کلمہ دینِ کامل کا

ذکرِخیر کو دل جب مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

بن گیا مدینہ وہ، نور کا نگینہ وہ

انتظار جو یثرب مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

رب درود پڑھتا ہے اور سب فرشتے بھی

ذکر ہر پہَر ہر لب مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

علم و حکمت و عرفاں رشد و عشق اور وجداں

اعتراف ہر منصب مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

جھوم جھوم کر یہ دل کیوں نہ نامِ احمد لے

ذکر ناز سے جب رب مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

مصطفےٰ نے بخشا ہے احترام انساں کو

احترام ہر مذہب مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

کائنات کا والی ، عرش کو چلا عاشی

ناز گام گام اشہب مصطفےٰ کا کرتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات