اشک کو صَوت نہ کر، صَوت کو گفتار مکُن

پاسِ آدابِ مواجہ کوئی اظہار مکُن

لوٹ جانا تو مقدر ہے مدینے سے، مگر

دل کا معکوس تقاضا ہے کہ ایں کار مکُن

یادِ سرکار چلی آتی ہے انوار بہ کف

رتجگا خُوب ہے تو حسرتِ دیدار مکُن

دیکھ! سُورج سے نہیں مانگتے انوار کی بھیک

یہ مدینہ ہے یہاں شوق پہ اصرار مکُن

بٹتی ہے اُس درِ نعمت پہ متاعِ کونین

مانگنے والے ! سنبھل، ہاتھ بڑھا، عار مکُن

ٹُوٹ جائے نہ کہیں سانس کی لرزش سے خیال

دید کو ہوش نہ دے، خواب کو بیدار مکُن

بے طلب کھِلتا ہے مقصودؔ گُلِ شوق یہاں

جذب کے کیف کو خواہش میں گرفتار مکُن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]