انوار برستے رہتے ہیں اس پاک نگر کی راہوں میں

اک کیف کا عالم ہوتا ہے طیبہ کی مست ہواؤں میں

اس نام محمد کے صدقے بگڑی ہوئی قسمت بنتی ہے

اس کو بھی پناہ مل جاتی ہے جو ڈوب گیا ہو گناہوں میں

گیسوۓ محمد کی خوشبو اللہ اللہ کیا خوشبو ہے

احساس معطر ہوتا ہے واللیل کی مہکی چھاؤں میں

وہ بانی دین مبین بھی ہے حم بھی ہے یسن بھی ہے

مسکینوں میں مسکین بھی ہے سلطان زمانہ شاہوں میں

سب جلوے ہیں اس صورت کے ، وہ صورت ہی وجہ اللہ ہے

اللہ نظر آ جاتا ہے وہ صورت جب نگاہوں میں

اللہ کی رحمت کے جلوے اس وقت میسر ہوتے ہیں

سجدے میں ہوں جب آنکھیں پرنم اور نام محمد آہوں میں

اس ناطق قرآن کی مدحت انسان کے بس کی بات نہیں

ممدوح خدا ہیں وہ واصف صد شکر کہ ہم ہیں گداؤں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]