اُنہی کا نور پھیلا ہے جدھر دیکھو جہاں دیکھو

اِدھر دیکھو اُدھر دیکھو یہاں دیکھو وہاں دیکھو

غلاموں کی رسائی تا بہ بزمِ قدسیاں دیکھو

کہاں سے اُن کی نسبت نے ہے پہنچایا کہاں دیکھو

اثر ہے دامنِ سرکار سے وابستہ ہونے کا

عیاں ہونے لگے کس طرح اسرارِ نہاں دیکھو

جوابِ ہر سوالِ ماضی و فردا ملا اُن سے

گماں تک بھی نہیں ایسے مٹے وہم و گماں دیکھو

ہر سو بارشِ انوارِ رحمت ہے مدینے میں

یہ ہے دربار آقا کا کہ جنت کا نشاں دیکھو

ہم اپنی تنگ دامانی سے عاجز ہوگئے ورنہ

ہے لطف و جود و رحمت کا یہاں دریا رواں دیکھو

گنہہ گار اُن کے در پر جائیں یہ حکمِ اِلٰہی ہے

وہ راضی ہوں تو پھر ہوتا ہے حکمِ کُن فکاں دیکھو

کسی صورت کسک اس درد کی کم ہو نہیں پاتی

علاجِ درد سے بڑھتا ہے کیوں دردِ نہاں دیکھو

گدائے در پریشاں حال محشر میں رہے کیوں کر

انیسِ بے کساں دیکھو شفیعِ عاصیاں دیکھو

کرم سے اُن کے اُن کی نعت ہوتی ہے رقم عارفؔ

مری بے مایگی دیکھو مرا طرزِ بیاں دیکھو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]