تڑپتے مضمحل ہر پل پئے دیدار اچھے ہیں

مسیحا آپ ہو جائیں تو ہم بیمار اچھے ہیں

اگر نیرنگیٔ دنیا سے ہیں بیزار اچھے ہیں

درِ آقا پہ زیرِ سایۂ دیوار اچھے ہیں

ذلیل و خوار جو تھے آج عزّت دار اچھے ہیں

بُرے بھی آپ کے ہو کر مرے سرکار اچھے ہیں

نظر سے چومتا پھرتا ہوں ہر سو خاکِ طیبہ کو

جہاں سے آپ گزرے کوچہ و بازار اچھے ہیں

بڑی اچھی گزرتی ہے درِ سرکار پر اپنی

منوّر روح ہوتی ہے کہ یہ انوار اچھے ہیں

دو عالم سے جُدا ہے گلشنِ طیبہ کی رعنائی

گلوں کا ذکر کیا اُس جا جہاں کے خار اچھے ہیں

نہ مجھ کو فکر دنیا کی نہ مجھ کو فکر عقبیٰ کی

مجھے کس بات کا غم جب مرے غمخوار اچھے ہیں

مجھے مل جائے میری نعت گوئی کا صلہ عارف

مرے آقا جو فرما دیں ترے اشعار اچھے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]