طیبہ نگر کا مجھ کو بھی زادِ سفر ملے

گر میری آزوؤں کو بابِ اثر ملے

کیسے نہ پہنچے منزل رفعت پہ وہ حُروف

جن کو، زبان صاحب شق القمر ملے

مفہومِ زندگی نئے سانچوں میں ڈھل گیا

جب ساکنانِ فرش کو خیرالبشر ملے

دامانِ شہر علم سے جو منسلک نہیں

ممکن نہیں وہ عاقل وبالغ نظر ملے

توصیفِ مصطفیٰ لکھوں حسّان کی طرح

اے کاش، مجھ کو، ان سا شعور وہنر ملے

قلب ونظر پہ چھا گیا دربارِ مصطفیٰ

ہے جستجوئے شوق کہ طیبہ میں گھر ملے

قبل از دعا بھی، بعدِ دعا بھی پڑھو درود

گر چاہتے ہو شاخِ دُعا کو ثمر ملے

خاکِ مدینہ اُوڑھ کے سو جاؤں میں نثار

سلطان انبیاء سے اجازت اگر ملے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]