عدو کے واسطے، ہر ایک امتی کے لیے

دعائیں کیں شہِ کونین نے سبھی کے لیے

میں پی رہا ہوں مسلسل شرابِ عشقِ رسول

یہ بے مثال ہے تسکین سرمدی کے لیے

مدام رشکِ گُل تر کا تذکرہ لب پر

سجائے رکھتا ہوں ایماں کی تازگی کے لیے

تم اپنے پاس رکھو ہر خوشی، جہاں والو

نبی کا غم ہے بہت میری زندگی کے لیے

ہوائے گلشن طیبہ کا ایک ہی جھونکا

بہت ہے غنچۂ دل کی شگفتگی کے لیے

کرم کی ایک جھلک اب تو اے مہِ طیبہ

ترس رہا ہے کوئی کب سے چاندنی کے لیے

سیاہ خانۂ دل میں جلا لیا شارب

چراغ ان کی محبت کا روشنی کے لیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]