قرب انوار مدینہ سے چمکتا ہُوا دِل
چاند تاروں سے سوا خود کو سمجھتا ہُوا دِل
آج چہکا ہے مدینے کے کبوتر کی طرح
گنبدِ سبز کے اطراف میں اُڑتا ہُوا دِل
اپنی قسمت پہ بہت ناز کِیا کرتا ہے
حرمِ پاک کےاِک طاق میں رکھا ہُوا دِل
مجھ سے پہلے درِ احمد سے لپٹنا ہے اسے
میرے قابو میں کہاں ہے یہ ہُمکتا ہُوا دِل
نعت کہتے ہوئے اکثر مجھے محسوس ہُوا
شدتِ جذب سے کاغذ پہ اُترتا ہُوا دِل
ممکنہ حد میں کھڑی اشک بہاتی ہوئی میں
جا لگا ہے درِ اقدس سے سرکتا ہُوا دِل