قسیم ِ نور و تجلی کی ذات روشن ہے

قسیمِ نور و تجلی کی ذات روشن ہے

سراپا حاملِ حسنِ صفات روشن ہے

حریمِ جاں میں ہے عشقِ شہِ امم کا چراغ

سو میرے دل کی ابھی کائنات روشن ہے

رخِ نبی سے منور ہوئی ہے صبحِ ازل

گھنیری زلف کے سائے میں رات روشن ہے

اٹھی جو روشنی غارِ حرا سے حکمت کی

اسی سے جلوہ گہِ شش جہات روشن ہے

میں جا رہا ہوں دیارِ شہِ امم کی طرف

زہے نصیب سبیلِ نجات روشن ہے

میں اس کے گوشوں میں کس کس کو اب شمار کروں

"ہر ایک پہلو سے ان کی حیات روشن ہے ”

نواز گرچہ ترا دل ہے تیرہ و تاریک

تری طرف نظَرِ التفات روشن ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]