لب پہ ہے ذکر شاہِ علیہ السلام کا،

لب پہ ہے ذکر شاہِ علیہ السلام کا

مقصودِ کائنات کا خیر الانام کا

قدسی بھی لے آئے تھے شمعیں درد کی

چھیڑا ہے کس نے ذکر مدینے کی شام کا

قول وعمل میں شاہ کے قرآں کا عکس ہے

مطلب ہر اک عیاں ہوا رب کے کلام کا

مثلِ خبیب، عشق میں ان کے ہو جو فنا

ملتا ہے اس کو لطف بقائے دوام کا

دیکھو تعزّ روہ کو فتح مبیں میں تم

قرآن حکم دیتا ہے اس احترام کا

مکّہ ہوا جو فتح خطا سب کی بخش دی

منظر بہت عظیم تھا اس لطفِ عام کا

ان پر درود پڑھنا ہے لازم نماز میں

تب اختتام ہوگا سجود وقیام کا

مقصود ان کی دید ہے کوثر کے حوض پر

صدقے میں ان کے تحفہ ہے کوثر کے جام کا

روضے پہ آیا پھول آیا، اشکوں سے آنکھیں تر

آقا! سلام لیجیے ادنیٰ غلام کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Releated

پھراٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب

پھر اٹھا ولولہ یاد مغیلان عرب پھر کھنچا دامن دل سوئے بیابان عرب باغ فردوس کو جاتے ہیں ہزاران عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابان عرب میٹھی باتیں تری دینِ عجمِ ایمان عرب نمکیں حسن ترا جان عجم شان عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامان عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے […]

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے

کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے کھبتی ہوئی نظر میں ادا کس سحر کی ہے چبھتی ہوئی جگر میں صدا کس گجر کی ہے ڈالیں ہری ہری ہیں تو بالیں بھری بھری کشتِ اَمل پری ہے یہ بارش کدھر کی ہے ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے سونپا خدا […]